Friday, 16 November 2018

‏ہزار جام تصدق

‏ہزار جام تصدق ہزار مے خانے

نگاہ یار کی لزت شراب کیا جان

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.

آئینے ٹوٹ کر نہیں جڑتے

‏آئینے ٹوٹ کر نہیں جڑتے دوستوں کو نہ یوں خفا کیجیے ! لفظ سے بھی خراش پڑتی ہے تبصرہ , سوچ کر کیا کیجیے ! جھوٹ سے بھی برا ہے آدھا سچ اس سے ...