ہم اک شخص نہیں کائنات ہارے تھے
Friday, 12 December 2025
Wednesday, 19 March 2025
جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں
میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں
جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں
بعد میں جا کے اکڑتے ہیں، خدا بنتے ہیں
ورنہ دنیا میں تو سب لوگ بشر آتے ہیں
دل میں رہنے کے طریقے مجھے معلوم نہیں
یار تم مجھ کو سکھا دو گے؟ اگر آتے ہیں
ایک کھڑکی میرے ماضی کی طرف کھلتی ہے
جس میں دھندلائے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں
تیرا دل کیوں نہیں بھر آتا مرے اشکوں سے
اتنے پانی سے تو تالاب بھی بھر آتے ہیں
امن شہزادی
Wednesday, 15 January 2025
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہـے
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہـے
پاگل ہـے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہـے
خود اپنے ہی ہاتھوں سے وہ گھر اپنا جلا کر
اب سر کو چھپانے کی جگہ ڈھونڈ رہا ہـے
کل رات کو یہ شخص ضیا بانٹ رہا تھا
کیوں دن کے اجالے میں دیا ڈھونڈ رہا ہـے
شاید کے ابھی اُس پہ زوال آیا ہوا ہـے
جُگنُو جو اندھیرے میں ضیا ڈھونڈ رہا ہـے
کہتے ہیں کہ ہر جاہ پہ موجود خُدا ہـے
یہ سُن کے وہ پتّھر میں خُدا ڈھونڈ رہا ہـے
أسكو تو کبھی مُجھ سے محبت ہی نہیں تھی
کیوں آج وہ پھر میرا پتا ڈھونڈ رہا ہـے
کس شہرِ مُنافق میں یہ تُم آ گئے ساغرؔ
اک دوجے کی ہر شخص خطا ڈھونڈ رہا ہـے
ساغرؔ صدیقی
اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
بوجھ پانی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
پاؤں رکھتے ہیں جو مجھ پر انہیں احساس نہیں
میں نشانات مٹاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
برف ایسی کہ پگھلتی نہیں پانی بن کر
پیاس ایسی کہ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
اچھی لگتی نہیں اس درجہ شناسائی بھی
ہاتھ ہاتھوں سے ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
غمگساری بھی عجب کار محبت ہے کہ میں
رونےوالوں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتا ہوں
اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن
میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں
محسن نقوی
Tuesday, 14 January 2025
تمہارا آخری میسج
تمہارا آخری میسج میرے انباکس میں رکھا ہے
اُس میں تم نے لکھا ہے مجھے اب بھول جانا تم
جدائی پھانس بھی ہو تو صبر سے جھول جانا تم
مجھے اپنی قسم دی ہے میری تو جان لے لی ہے
مگر میں جان دے کر بھی آخر تک نبھاوں گا
میں تجھ کو بھول جاؤں گا
مگر تم سے فقط میری ذراسی یہ گزارش ہے
میری آنکھوں میں مت رہنا میرے دل سے اُتر جانا
بھلانے بھول جانے میں تجھے میں یاد کرلوں
مجھے تم یاد نہ آنا کبھی بھی یاد نہ آنا
تمہارا آخری میسج میرے انباکس میں رکھا ہے
اُس میں تم نے لکھا ہے مجھے اب بھول جانا تم
Saturday, 11 January 2025
mafroor parindon ko ye ailaan gaya hai
sayyaad nasheeman ka pata jaan gaya hai
yaani jise deemak lagi jaati thi vo main tha
ab aake mera meri taraf dhyaan gaya hai
sheeshe mein bhale usne meri nakl utaari
khush hoon ki mujhe koi to pehchaan gaya hai
ab baat teri kun pe hai kuchh kar mere maula
ik shakhs tere dar se pareshaan gaya hai
ye naam-o-nasab jaake zamaane ko batao
darvesh to dastak se hi pehchaan gaya hai
Subscribe to:
Posts (Atom)
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ ...
-
میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں بعد میں جا کے اکڑتے ہیں، خدا بنتے ہیں و...
-
مِٹتی ہوئی تہذیب سے نفرت نہ کیا کر چوپال پہ بُوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہُوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طو...
-
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا...