Saturday, 12 February 2022

Taskeen Na Ho Jis Mein

تسکین نہ ہو جس میں وہ راز بدل ڈالو
 جو راز نہ رکھ پائے ہمـــــراز بدل ڈالو🌹

 تم نے بھی سنی ہوگی بڑی عام کہاوت ہے
 انجــــــــام کا ہو خطرہ آغـــــــــاز بدل ڈالو🌹

 پر سوز دلوں کو جو مســــــــکان نہ دے پائے
 سر ہی نہ ملے جس میں وہ ســــاز بدل ڈالو🌹

 دشمــــــــن کے ارادوں کو ہے ظاہر اگر کرنا 
 تم کھیـــــــــــــل وہی کھیلو انداز بدل ڈالو🌹

 اے دوست کرو ہمـــت کچھ دور سویـرا ہے
 گر چاہتے ہو منــــــــــــــــزل پرواز بدل ڈالو🌹

 علامہ اقبالؒ

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ ...