Monday, 9 December 2024

‏دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

‏دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے 
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے 

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو 
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے 

آنکھوں کو بھی لےڈوبا یہ دل کا پاگل پن 
آتے جاتے جو ملتا ہے ، تم سا لگتا ہے 

اس بستی میں کون ہمارےآنسو پونچھے گا 
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے 

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں 
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے 

کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے 
شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے

 قیصر الجعفری

No comments:

Post a Comment

Note: only a member of this blog may post a comment.

آئینے ٹوٹ کر نہیں جڑتے

‏آئینے ٹوٹ کر نہیں جڑتے دوستوں کو نہ یوں خفا کیجیے ! لفظ سے بھی خراش پڑتی ہے تبصرہ , سوچ کر کیا کیجیے ! جھوٹ سے بھی برا ہے آدھا سچ اس سے ...